Hamza Daim all Ghazals Collection in Urdu

In this post, we provide you the latest collection of Hamza Daim Ghazals collection in Urdu. He is one of the few poets who become famous at a young age. His Ghazals develop a deep relationship with the reader. If you like the Ghazals of Hamza Daim, then also share it with your friends.

کب مری بات تو مانا ہے دل

اس کا عاشق تو زمانہ ہے دل

یوں اسے دیکھ رہا ہے کب سے

کیا تجھے جان سے جانا ہے دل

رات پہلو میں ترے گزرے گی

خواب تو صرف بہانہ ہے دل

کرنا کچھ غم کہ یہی دنیا ہے

اسی کا نام زمانہ ہے دل

اب مقدر میں بھی قسمت میں بھی

صرف آنسو ہی بہانا ہے دل

وہ ترے پاس ہی تو ہے دائمؔ

اب بتا دے تو بتانا ہے دل

حمزہ دائم

Also Read: Hamza Daim Poetry

Hamza-Daim-Ghazals

چراغ محبت جلانے لگے ہیں

ابھی سے قدم ڈگمگانے لگے ہیں

غم زندگی جب سنانے لگے ہیں

بنانے میں ہم کو زمانے لگے ہیں

بجھانے میں جس کو زمانے لگے ہیں

وہیں آگ پھر سے لگانے لگے ہیں

ذرا آگے بڑھ کے دیا اک جلاؤ

اندھیرے بہت اب ستانے لگے ہیں

نتیجہ شرافت کا ہوتا یہی ہے

سبھی آج انگلی اٹھانے لگے ہیں

حمزہ دائم

Hamza-Daim-Ghazals

نفع نقصان دیکھا جا رہا ہے

محبت میں بھی سوچا جا رہا ہے

انائیں رہن رکھی جا رہی ہیں

خودی کو آج بیچا جا رہا ہے

مری معصوم سی کچھ خواہشوں کو

سر بازار روندا جا رہا ہے

کوئی سورج سوا نیزے پہ لا کر

مری ہمت کو پرکھا جا رہا ہے

یہی کیا کم ہے تیری عاشقی میں

ہمارا نام لکھا جا رہا ہے

محبت کی سزا پائی ہے دائمؔ

مری سانسوں کو روکا جا رہا ہے

حمزہ دائم

Hamza-Daim-Ghazals

جس نے رکھا ہے ہمیشہ نفرتوں کے درمیاں

وہ دھڑکتا پھر رہا ہے دھڑکنوں کے درمیاں

زندگی کو غور سے دیکھا تو مجھ کو یوں لگا

ایک طوائف جس طرح ہو منچلوں کے درمیاں

اس حریم ناز سے شکوہ کیا تھا ایک دن

منزلیں بکھری پڑی ہیں راستوں کے درمیاں

بے بسی سی بے بسی ہے کیا کہیں کس سے کہیں

میں تو پیاسا مر رہا ہوں بادلوں کے درمیاں

نارسائی کا یہ دکھ تو مار ڈالے گا مجھے

کسمپرسی کا سماں ہے چاہتوں کے درمیاں

میرؔ کے لہجے میں غزلیں کہہ رہا ہوں آج بھی

نام کچھ کچھ بن رہا ہے غالبوں کے درمیاں

پیار کے سارے مناظر دھندلکوں میں ڈھل گئے

کچھ کمی سی رہ گئی تھی رابطوں کے درمیاں

زندگی کے اس بھنور سے کون نکلے دیکھیے

چہ می گوئیاں ہو رہی ہیں بے بسوں کے درمیاں

سر پہ چھت نہ سائباں ہیں بے بسی تو دیکھیے

کاغذی اک پیراہن ہے بارشوں کے درمیاں

فاختہ زیتون کی شاخوں پر ماری جائے گی

فیصلہ یہ ہو چکا ہے ظالموں کے درمیاں

دوستوں رہنے بھی دو جھوٹی تسلی کس لیے

وقت اچھا کٹ رہا ہے مشکلوں کے درمیاں

وہ اکیلا ہے اور اس کے چاہنے والے بہت

جنگ ہونے جا رہی ہے عاشقوں کے درمیاں

دشمنوں سے کہہ دیا ہے فکر میری چھوڑ دیں

میں کھڑا ہوں آج بھی کچھ دوستوں کے درمیاں

کس طرح دائمؔ کٹے گا بے یقینی کا سفر

مشورہ یہ ہو رہا ہے قافلوں کے درمیاں

حمزہ دائم

Also Read: Hamza Daim Nazams

Hamza-Daim-Ghazals

جرم الفت کی مجھے خوب سزا دیتا ہے

خط کو پڑھتا بھی نہیں اور جلا دیتا ہے

ٹوٹ جاتے ہیں سبھی آئنہ خانے میرے

جب تخیل تری تصویر بنا دیتا ہے

میرے حاکم کو بہت بار گراں گزرے گا

کوئی ظالم ہے جو زنجیر ہلا دیتا ہے

اس کے آنے کی مجھے جھوٹی تسلی مت دو

یہ دلاسہ تو مرا درد بڑھا دیتا ہے

میرے احباب کو کچھ سوچنا ہوگا دائمؔ

میرا دشمن مجھے جینے کی دعا دیتا ہے

حمزہ دائم

Hamza-Daim-Ghazals

محبت ابتدا میں ہے جفائیں نا مناسب ہیں

تمہارے روٹھنے کی یہ ادائیں نا مناسب ہیں

یہ شاید عمر ایسی تھی محبت ہو گئی مجھ کو

مگر اس عمر میں اتنی سزائیں نا مناسب ہیں

تمہارے شہر سے جانا مقدر تھا سو جھیلا ہے

مگر اس میں رقیبوں کی دعائیں نا مناسب ہیں

ابھی سے ہجر کی تلخی میں مر جاؤں گا جان جاں

ابھی موسم وفا کا ہے جفائیں نا مناسب ہیں

انہی تاریکیوں میں زندہ رہنے کا ہنر سیکھو

دیے کو مت جلاؤ تم ہوائیں نا مناسب ہیں

یہ شعر و شاعری دائمؔ یہ عشق و عاشقی دائمؔ

مری مانو تمہاری یہ ادائیں نا مناسب ہیں

حمزہ دائم

Best Ghazals of Hamza Daim:-

Hamza-Daim-Ghazals

زندگی اس کے نام لکھی ہے

میری جانب جو دیکھتا بھی نہیں

میں اسے اپنا کہتا پھرتا ہوں

اور وہ مجھ کو جانتا بھی نہیں

وقت اک بے لگام گھوڑا ہے

روند دیتا ہے سوچتا بھی نہیں

عمر ساری سفر میں گزری ہے

اور منزل کا کچھ پتا بھی نہیں

ہم مسافر ہیں اس سفینے کے

جو کہ ساحل سے آشنا بھی نہیں

حمزہ دائم

Hamza-Daim-Ghazals

روگ پھر سے لگا لیا دل کو

پیار سپنا دکھا لیا دل کو

ہم نے رہنے کو دل دیا اس کو

اس نے رستہ بنا لیا دل کو

اس کی چوکھٹ پہ پھینک آئے ہیں

ہم نے پھر سے گنوا لیا دل کو

کتنا نازک تھا ٹوٹ جاتا تھا

ہم نے پتھر بنا لیا دل کو

کون سنتا فسانہ غم کو

ہم نے دائم سنا لیا دل کو

حمزہ دائم

Hamza-Daim-Ghazals

دل کا حال سننے میں حال دل سنانے میں

عمر بیت جائے گی روٹھنے منانے میں

وحشتوں میں یکتا ہیں پوچھ لوں زمانے سے

کون ہے کوئی ہم سا قیس کے گھرانے میں

آؤ دونوں مل کر ہم مسئلے کا حل ڈھونڈیں

دل کو توڑ بیٹھے ہیں دیکھنے دکھانے میں

جانے کون سی منزل جستجو میں رکھی تھی

عمر کاٹ دی ہم نے راستے بنانے میں

ہم کو ان اناوں نے نامراد رکھا ہے

ورنہ لطف آجاتا روٹھنے منانے میں

یہ تو ہم مروت میں مار کھا گئے ورنہ

دیر کتنی لگتی ہے آ سماں گرانے میں

حمزہ دائم

Hamza-Daim-Ghazals

جب بھی دیکھا ہے بجا دیکھا ہے

آئنہ خاک ہوا دیکھا ہے

یہ مری آنکھ نہیں فتنہ ہے

اس نے ہر شخص خدا دیکھا ہے

بات کرتے ہو روانی کی تم

میں نے دریا کو رکا دیکھا ہے

جانے کتنے ہی زمانے گزرے

میں نے ہر روز نیا دیکھا ہے

زہر کو ضبط کیے بیٹھا ہوں

یوں تو ہر دشت ہرا دیکھا ہے

رات بھر نیند نہیں آتی مجھے

میں نے انسان مرا دیکھا ہے

میں نے ایمان کی خاطر دائمؔ

سر کو نیزے پہ چڑھا دیکھا ہے

حمزہ دائم

Hamza-Daim-Ghazals

اپنی مٹی سے یوں جڑے ہوئے ہیں

چل رہے ہیں مگر رکے ہوئے ہیں

دائروں میں سفر کیا ہم نے

ہم جہاں تھے وہیں کھڑے ہوئے ہیں

خود کو انمول کہنے والے ہم

ایک پل کے عوض بکے ہوئے ہیں

جھوٹی امید مت دلاو ہمیں

ان وفاؤں کے ہم ڈسے ہوئے ہیں

پورے گھر کا وزن کاندھوں پر

میرے کاندھے جبھی جھکے ہوئے ہیں

تم جہاں چھوڑ کر گئے تھے ہمیں

ہم اسی موڑ پر کھڑے ہوئے ہیں

حمزہ دائم

Hamza-Daim-Ghazals

تری چاہتوں پہ یقیں کیاتبھی سلسلہ یہ بحال ہے

مجھے راستے میں نہ چھوڑنا مری زندگی کا سوال ہے

کیا عجب سکوت ہے چار سو کہاں رک گئی ہے زندگی

نہ کسی سے کوئی شکایتیں نہ یہ ہجر ہے نہ وصال ہے

ترا حسن سب سےہے معتبرنہیں کوئی تجھ سا کسی نگر

یہ جو چاند میں ہے چمک دمک تراعکس حسن وجمال ہے

تری آرزو مری رہ نما تری رہ گزر مری سجدہ گاہ

تو ہے دھڑکنوں میں بسا ہوا تو عقیدتوں کی مثال ہے

مرے اپنے مجھ سے خفا ہوئے مجھے دوستوں نے جھٹک دیا

میں جو جی رہا ہوں ابھی تلک تری چاہتوں کا کمال ہے

میں جو لکھ رہا ہوں حکایتیں ترے ہجر کی یہ شکایتیں

یہ ہے وقت میرے زوال کا مرا اس سے بچنا محال ہے

حمزہ دائم

Hamza-Daim-Ghazals

مجھ پہ الزام دھر گیا دیکھو

آنکھ اشکوں سے بھر گیا دیکھو

کوئی روشن ضمیر تھا شاید

اور اندھیروں میں مر گیا دیکھو

جس نے رکھا تھا سر ہتھیلی پر

وہ بھی دنیا سے ڈر گیا دیکھو

دل کو کتنا سنبھال رکھا تھا

اس کو ڈھونڈو کدھر گیا دیکھو

کس قدر اجنبی سا لگتا ہے

بعد مدت کے گھر گیا دیکھو

مجھ کو دائمؔ یقین سے بچھڑے

ایک عرصہ گزر گیا دیکھو

حمزہ دائم

Hamza-Daim-Ghazals

بات کرتے ہیں مگر بات کہاں ہوتی ہے

اس سے مل کر بھی ملاقات کہاں ہوتی ہے

اپنے حصّے کا دیا لے کے تو نکلو گھر سے

یارو! اتنی بھی سیہ رات کہاں ہوتی ہے

وہ تو انﷺ پر ہے کہ کس کو یہ شرف حاصل ہو

ایروں غیروں سے بھلا نعت کہاں ہوتی ہے

لہجہ پُر سوز بھی ہو ٗ جرأتِ اظہار بھی ہو

لفظ گونگے ہوں تو حق بات کہاں ہوتی ہے

خونِ دل دے کے جنہیں سینچا گیا ہو دائم ؔ

ایسی صبحوں کی بھلا رات کہاں ہوتی ہے

حمزہ دائم

Hamza-Daim-Ghazals

کچھ منافق جو مرے یار بنے پھرتے ہیں

یہ مری جان کا آزار بنے پھرتے ہیں

ظلمتِ شب میں دیا لے کے کھڑے ہیں تنہا

سر تا پا حق کے طرف دار بنے پھرتے ہیں

سچ کو سچ کہنے کی جرأت بھی نہیں ہے ان میں

خود میں جو حیدرِ کرّارؓ بنے پھرتے ہیں

ہم جنہیں راہ نما مان کے نکلے گھر سے

اب وہی راہ کی دیوار بنے پھرتے ہیں

یہ ہم اوروں کی زباں بولنے والے دائم

اب بغاوت کے علم دار بنے پھرتے ہیں

حمزہ دائم

Hazma Daim Ghazals:-

رات کا وہ پہر بھی آئے گا

جھومے گی لو چراغ گائے گا

عشق جب ہم کو آزمائے گا

اپنی تاریخ بھول جائے گا

جھوٹ کو سچ سمجھنے والوں پر

آئنہ قہقہے لگائے گا

سوچتا ہوں تو خوف آتا ہے

تو بھی رستے میں چھوڑ جائے گا

وہ تو ناداں ہے کوئی روکو اسے

وہ زمانے سے ہار جائے گا

ہم نے پل پل کو آزمایا ہے

اب ہمیں وقت آزمائے گا

ہجر کی رات کاٹنے والو

کون آتا ہے کون آئے گا

حمزہ دائم

Hamza-Daim-Ghazals

سر پہ چھت ہے نہ سائباں میرے

تو کہاں پر ہے مہرباں میرے

سنگ چننے کی مجھ کو عادت ہے

لیک رستے میں آسماں میرے

مجھ کو تنہائیوں نے مار دیا

تو بھی گونجے گا کیا مکاں میرے

عشق میں معتبر ہوا ایسے

قیس کے ساتھ ہیں نشاں میرے

عید کا دن ہے رسم دنیا ہے

لوٹ آ آج بد گماں میرے

کون تعبیر ان کو دے دائمؔ

خواب ہیں سب دھواں دھواں میرے

حمزہ دائم

Hamza-Daim-Ghazals

اج بس مكدی گل مکا دو

سانوں اپنا آپ وکھا دو

سپ دی فطرت بدل نئیں سکدی

بھاویں اپنا خون پیا دو

سانوں ساڈے ناں توں سد کے

شہر اچ ساڈا مان ودا دو

بنیا بیٹھا ہر کوئی مومن

ہر گھر اچ اک شیشہ لا دو

اج فر حق دا نعرا لایا

اج فر سانوں زہر پیا دو

حمزہ دائم

Final Words: If you really like the Ghazals collection of Hamza Daim, then give your opinion about his Ghazals in the Comments. And also visit us for more content like this.

Also Read: Abbas Tabish Shayari

Leave a Comment

close

Ad Blocker Detected!

Please off AdBlocker to access this site

Refresh

Share via
Copy link
Powered by Social Snap